احمدآباد ،21اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سورت عصمت دری معاملہ میں قاتل ہرسیہائے نے پولس کے سامنے 11سال کی بچی سے عصمت دری اور قتل کی بات کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم نے قبول کیا کہ اس نے بچی کو دو دن تک کھانا نہیں دیا اور اس کے ساتھ تب تک ظلم کرتا رہا جب تک نابالغ نے دم نہیں توڑ دیا ۔ملزم نے بچی کی ماں کو قتل کئے جانے کابھی اعتراف کیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں گجرات کی سورت پولس کو 11سال کی ایک بچی کی لاش جھاڑیوں میں پڑی ملی تھی، جس کے جسم پر 86 مقامات پر چوٹ کے نشان پائے گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ بار بار عصمت دری کرکے اس کے پرائیویٹ پارٹس میں بھی کافی چوٹ پہنچائی گئی تھی۔ اس خطرناک حادثہ کی خبر نے پورے گجرات کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ملزم نے پولس کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے پورا بھروسہ تھا کہ پولس اس تک نہیں پہنچ پائے گی۔ ملزم نے اپنی سازش کے تحت بڑی ہوشیاری سے سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ اسی بھروسے پر قاتل نے لاش کو 6 اپریل کے دن جھاڑیوں میں پھینکنے کے بعد 10 دن تک وہ سورت میں اپنے مکان میں ہی رہ رہا تھا، لیکن پولس کی پیٹرولنگ علاقے میں بڑھنے کے بعد قاتل اپنے اہل خانہ کے ساتھ راجستھان نکل گیا۔ملزم نے ہرش نے 35 ہزار روپئے دے کر ماں اور بیٹی کو راجستھان سے خریدا تھا، جس کے تحت پولس انسانی اسمگلنگ کا بھی معاملہ درج کرنے جارہی ہے۔ تقریباً 20 دن قبل خاتون کے غائب ہونے کی رپورٹ لکھائی گئی تھی۔ جانچ سے پتہ چلا کہ یہ خاتون بچی کی ماں تھی۔ سورت پولس اور کرائم برانچ کے علاوہ سرکار نے احمد آباد پولس کو بھی اس کیس پر کام کرنے کے لئے کہا ہے۔